لوقا 7:18-35

یوحنا کا یسوع سے سوال کرنا

18 یوحنا کے شاگردوں نے ان تفصیلی واقعات کو یو حنا سے بیان کیا تو یوحنا نے اپنے شاگردوں میں سے دو کو بلایا اور انہیں خدا وند سے یہ پو چھنے بھیجا۔ 19 “وہ جسے آنا چاہئے تھا وہ آپ ہی ہیں یا دوسرے شخص کا ہمیں انتظار کرنا ہوگا ؟۔”

20 اس وجہ سے وہ یسوع کے پاس آئے اور پوچھا، “یوحنا بپتسمہ دینے والے نے آپ سے پوچھنے کو بھیجا ہے۔ جن کو آنا چاہئے وہ آپ ہی ہیں یا کسی دوسرے کا ہمیں انتطار کر نا ہو گا ؟”

21 اس وقت یسوع نے کئی لوگوں کو انکی بیماریوں سے اور مختلف امراض سے شفاء دی۔ اور بدروحوں کے بد اثرات سے جو متاثر تھے انکو وہ آزاد کرائے یسوع نے کئی اندھوں کو آنکھوں کی بینائی دی۔ 22 تب یسوع نے یوحنا کے شاگردوں سے کہا، “تم جن واقعات کو یہاں سنے اور دیکھے ہو ان کو جاکر یوحنا سے سنا دینا۔کہ اندھوں کو بینائی ملی اور لنگڑے کے پیر ٹھیک ہوئے وہ چل سکتے ہیں۔ اور کوڑھی شفاء پائے اور بہرے سننے لگے اور مردے زندہ کئے جاتے ہیں اور خدا کی بادشاہت کی خوشخبری غریب لوگوں کو دی گئی۔ 23 بغیر شک و شبہ کے جو کوئی مجھے قبول کریگا وہ قابل مبارک باد ہوگا ۔”

24 جب یوحنا کے شاگرد چلے گئے تو “یسوع لوگوں سے یوحناّ کے بارے میں بات کر نی شروع کی اور کہا، “تم صحراؤں میں کیوں گئے تھے؟ اور کیا دیکھنا چاہتے تھے کیا ہوا سے ہلنے والے سر کنڈے؟۔ 25 تم کیا دیکھنا چا ہتے تھے جب تم باہر گئے تھے؟ کیا نئی طر ز کی پو شاک زیب تن کر نے والو ں کو ؟ نہیں وہ جو عمدہ قسم کے لباس پہننے والے آرام سے بادشاہوں کے محلوں میں رہتے ہیں۔ 26 آ خر کار تم کیا چیزیں دیکھنے کیلئے باہر گئے؟ کیا نبی کو ؟ ہاں یوحناّ نبی ہے۔ لیکن میں تمہیں بتا دوں یوحناّ نبی سے بھی بڑھکر ہے۔ 27 اس طرح یوحناّ کے بارے میں لکھا ہوا ہے:

سنو! میں اپنے فرشتے کو پہلے تیرے پاس بھیجتا ہوں

وہ تو تیرے لئے راہوں کو ہموار کرے گا۔ [a]

28 میں تم سے کہتا ہوں اس دنیا میں پیدا ہو نے وا لے لوگوں میں یوحناّ سے بڑا کوئی نہیں لیکن خدا کی بادشاہت میں سب سے کمتر آدمی بھی اس سے اونچا اور بڑا ہی ہو گا۔”

29 “یوحناّ نے خدا کے کلا م کی جو تعلیم دی تو سب لوگوں نے اسے قبو ل کر لیا محصول وصول کر نے والے نے بھی اس بات کو تسلیم کیا اور یہ سب یوحناّ سے بپتسمہ لئے۔

30 لیکن فریسی اور معلمین شریعت نے خدا کے اس منصوبہ کو رد کر کے یوحناّ سے بپتسمہ نہیں لیا۔

31 “اس دور کے لوگوں کے بارے میں کیا بتاؤں اور میں انکو کن سے تشبیہ دوں کہ وہ کس کے مشابہ ہیں۔ 32 موجودہ دور کے لوگ بازار میں بیٹھے ہوئے بچوں کی مانند ہیں ایک زمرہ کے بچے دوسرے زمرہ کے بچوں کو بلا کر کہتے ہیں

کہ ہم نے تمہارے لئے مر لی بجائی

لیکن تم لوگوں نے ناچا نہیں

ہم رنج و غم کا گانا گائے

لیکن تم نہیں روئے۔

33 جب کہ بپتسمہ دینے والا یوحنا آیا وہ دوسروں کی طرح کھایا نہیں یا مئے نہیں پی۔ لیکن تم اسکے بارے میں کہتے ہو کہ اس پر بد روح کے اثرات ہیں۔ 34 ابن آدم آئے وہ دوسرے آدمیوں کی طرح کھانا کھاتے ہیں اور مئے بھی پیتے ہیں لیکن تم کہتے ہو وہ ایک پیٹو ہے مئے خور!محصول وصول کرنے والے اور دوسرے برے لوگ ہی اسکے دوست ہیں۔ 35 لیکن حکمت اپنے کاموں سے ہی اپنے آپ کو طاقتور اور مستحکم بنا تی ہے۔”